معاشرتی احترام اور ایک بل

ایک صاحب اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیرون ملک مقیم تھے وہاں ایک دن اُن کی اپنے جوان بیٹے کے ساتھ تلخ کلامی ہو گئی اور صاحب بہادر نے بیٹے کو نصیحت کرنے کے لئے چند تھپڑ رسید کر دئیے۔ بیٹے نے پولیس کو اطلاع دی اور قانون حرکت میں آگیا اور اس کے والد کو وہاں کے قانون کے مطابق سزا دی۔ جب وہ صاحب جیل یاترا سے گھر واپس پہنچے تو انہوں نے بیٹے کو ’’سیدھا کرنے‘‘ کی ترکیب بنا لی تھی۔ جیسے تیسے کر کے انہوں نے بیٹے کو اپنے آبائی وطن پاکستان لانے پر آمادہ کر لیا۔ تیاری مکمل کی گئی، جہاز کی ٹکٹیں بُک کرائی گئیں اور دونوں باپ بیٹا وطن عزیز آپہنچے۔ پاکستان کے کسی ائیر پورٹ سے متعلقہ محکموں کی چھان بین کے بعد جب ائیر پورٹ سے باہر ابھی قدم رنجہ فرمایا ہی تھا کہ صاحب بہادر جنہوں نے دیار غیر میں بیٹے کو چند تھپڑ مارے تھے انہوں نے 01610اپنا 10 نمبر کا جوتا اُتارا اور سرعام بیٹے کو پیٹنا شروع کر دیا۔ جس بیٹے کو پہلے چند تھپڑ رسید فرمائے تھے اب کی بار اس کی کمر پر یکے بعد دیگرے جوتوں کی بارش کر دی۔ عوام کا رش لگا تو نزدیک موجود پولیس بھی وہاں آپہنچی۔ پولیس کے دریافت کرنے پر بوڑھے باپ نے اپنی دُکھ بھری داستان سنائی تو ہماری شاہی پولیس بھی حرکت میں آگئی۔ پھر کیا ہونا تھا نوجوان کو وطن عزیز آمد پر پولیس کی طرف سے بھی تقریباً 21 جوتوں کی بھرپور سلامی دی گئی۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ پھر اس جوان لڑکے نے تمام عمر اپنے باپ کی خدمت کی اور کبھی باپ کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھا اور نہ ہی کبھی باپ سے اُونچی آواز میں بات کی۔

قارئین کرام! ہمارے معاشرے میں سینکڑوں بُرائیاں سہی، بطور قوم ہم میں ہزار خامیاں سہی لیکن ہمارے معاشرے میں کچھ ایسی خوبیاں ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں۔ ہمارے معاشرے میں والدین کی فرمانبرداری کو فرض عین سمجھا جاتا ہے، اگر کوئی شخص والدین کی نافرمانی کا مرتکب ہو جائے پھر زندگی بھر اسے معاشرے میں عزت حاصل نہیں ہو سکتی اور والدین بھی عاق کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ہمارے اسلامی جمہوریہ میں آزادی اظہار ہے مگر بڑوں کا ادب ہمارے معاشرے کا مثبت پہلو ہے۔ مغرب میں آپ کا رشتہ صرف اپنی ذات سے ہوتا ہے، دُوسرے شخص سے آپ کی وابستگی صرف مفادات کی حد تک ہوتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ مغربی ترقی سے ہم ابھی تک محفوظ ہیں کہ ہمارے ہاں خونی رشتہ داروں کے علاوہ محلے، گاؤں کا ہر بڑا آدمی بلحاظ عمر آپ کا ’’چاچا‘‘ یا ’’ماما‘‘ ہوتا ہے۔ ہر کوئی چھوٹے بچوں کو ڈانٹ سکتا ہے اور ہر کوئی آپ کو راہ راست پر لا سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں خاندان کے بزرگوں کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات آج بھی حرف آخر سمجھی جاتی ہے۔ بڑے بزرگوں سے اختلافات کے باوجود آخر دم تک بزرگوں کا حکم بجا لایا جاتا ہے۔ آزاد اسلامی جمہوریہ میں بزرگوں کو قطعاً طور پر اولڈ ہوم بھیجنے کی آزادی نہیں۔ بلکہ بزرگوں کو گھر پر رکھ کر اور خدمت کر کے دُعائیں لینے کو آج بھی فخر سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں بچہ پیدا ہونے پر مغرب کی طرح صرف اس کا نام سرکاری کوائف میں درج نہیں کرایا جاتا بلکہ پورے محلے اور برادری کو مدعو کر کے خوشی میں شریک کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی اتنا احساس ضرور موجود ہے کہ اگر آپ کی کسی بچپن کے دوست کے ساتھ دس سال بعد بھی ملاقات ہو جائے تو آپ اپنے سب کام چھوڑ چھاڑ کے اس دوست کے ساتھ پورا دن گزار دیتے ہیں۔ اپنی بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔ حال کے دکھڑے سنا کر اور دوست کے حالات سنتے ہیں اور دونوں فریقین کے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے، بیٹھے بٹھائے مستقبل میں دوست کے ساتھ ملاقاتوں کا پلان بھی تیار کر لیا جاتا ہے اور زندگی بھر رابطے میں رہنے کی قسمیں بھی کھائی جاتی ہیں۔
اس کے برعکس مغربی ممالک میں سائکیٹرسٹ (Psychetrist) کسی بھی شخص کا سب سے اچھا دوست ہوتا ہے۔ جی ہاں! ہر آدمی اپنا ڈپریشن کم کرنے کے لئے سائکیٹرسٹ کے پاس جاتا ہے اور لگاتار بولتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر اپنے علم کے مطابق اسے مطمئن کرنے کے لئے سوال جواب کرتا ہے اور یہ نشست ایک خاص ٹائم کے بعد ختم ہو جاتی ہے مگر آپ کو اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اپنی جیب کو بھی اچھا خاصا ہلکا کرنا پڑتا ہے۔
مغرب میں آپ کو دُنیا کے ساتھ چلنا پڑتا ہے، وہاں بے لوث چاہتوں کا کوئی تصور نہیں۔ مگر ہمارے ہاں آج بھی آپ کو خوشیاں بکھیرنے کے لئے کوئی قیمت نہیں دینی پڑتی بس آپ دُوسرے شخص کا احساس کریں۔ بھٹکے ہوئے کو راہ دکھائیں، پیاسے کو پانی پلائیں، بھوکے کو کھانا کھلائیں یا کسی بزرگ کی خدمت کریں آپ خوشی سے جھوم اُٹھیں گے۔
آپ لوکل ٹرانسپورٹ میں کسی ماں، بہن یا بیٹی کے لئے احتراماً اپنی سیٹ چھوڑ کر گاڑی کے ساتھ لٹک جائیں یقین جانیں ایسی خوشی آپ کو کسی پراڈو یا لینڈ کروزر کا سفر کر کے محسوس نہیں ہو گی۔
ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کو جو عزت و احترام حاصل ہے وہ شاید ہی کسی اور معاشرے میں حاصل ہو۔ ہمارے ہاں آج بھی لوگ گھر میں بیٹی کی پیدائش پر دستار اُتار دیتے ہیں، لوگ آج بھی بیٹی کی پیدائش کا سن کر شراب چھوڑ دیتے۔ ہمارے معاشرے کے مرد آج بھی بیٹی کی پیدائش پر ہتھیار پھینک دیتے ہیں اور گناہوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
ہمارے ہاں آج بھی مردوں کے ہجوم میں اگر کوئی عورت آجائے تو تمام مرد احتراماً راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے مرد آج بھی نامحرم عورت کے ساتھ ایک چارپائی پر نہیں بیٹھتے اور اگر کسی عورت کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ جائیں تو پھر زندگی بھر سگی بہنوں کا مقام اس عورت کو دیتے ہیں۔ ہمارے اردگرد کے لوگ کسی لڑکی کو میلی آنکھ سے دیکھنے والے لڑکے کی ایسی درگت بناتے ہیں کہ پھر وہ لڑکا ایسا کام کرنے کا سوچتا بھی نہیں۔ ہمارے ہاں لڑکی اغواء کرنے والے کو نتھ ڈال کر نشان عبرت بنانے کی مثال بھی ضلع چکوال کی تاریخ میں موجود ہے۔
اس قدر عزت و احترام اور معاشرتی تحفظ کے باوجود ہماری حکومت تحفظ نسواں بل لا کر عورت کو کیسا تحفظ دینا چاہتی ہے۔ ہمارے معاشرے کی عورت اور کیسا تحفظ چاہتی ہے۔ اس سے بڑھ کر ایک عورت کے لئے کیا آزادی ہو سکتی ہے کہ اسلام نے عورت کی کفالت مرد کے ذمے کر دی ہے اور عورت کو گھر بیٹھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اگر عورتوں کو لگتا ہے کہ مرد ان پر ظلم کرتے ہیں تو بہ طور ماں اپنے بیٹوں کی بہتر تربیت کر کے عورتیں اس ’’ظلم‘‘ کو کم کر سکتی ہیں۔ لیکن درحقیقت ’’ظلم‘‘ روکنے کے نام پر خاندانی نظام کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا کہ ’’اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے شکست دینا ہو تو اس کے نوجوانوں میں فحاشی پھیلا دو‘‘۔ یہ کام بھی ہمارا میڈیا بطریق احسن انجام دے رہا ہے۔ ایک دور تھا کہ اگر کسی گھر میں انڈیا کی فلم دیکھ لی جاتی تھی تو سب لوگ اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں اس گھرانے سے قطع تعلق کرنے تک پہنچ جاتے تھے۔ اب اگر کسی گھر میں انڈیا کا ڈرامہ یا فلم نہ چلے تو اس گھر کو برادری سے باہر سمجھا جاتا ہے۔
ہم مسلمان تو اپنے فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی کا نام تک بھول چکے ہیں مگر اس کے بتائے ہوئے اُصولوں کو غیر مسلم اپنا کر ہمیں شکست سے دوچار کر رہے ہیں۔ یہ ’’بل‘‘ بھی اسی سازش کی ایک کڑی محسوس ہو رہا ہے۔ شاید اس بل کے نام پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلوں کو ختم کر کے مغربی ثقافت کو اپنایا جا رہا ہے جہاں کلب، بار اور وہ سب کچھ جو لکھنے کی قلم میں طاقت نہیں۔
اگر ایسا ہے تو پھر آج کی آزاد عورت بروز محشر کیسے شفاعت حاصل کر سکے گی؟ جی ہاں قارئین محترم! ایک لمحے کے لئے، صرف ایک لمحے کے لئے سوچئے گا ضرور کہ اسلامی تعلیمات کا مذاق اُڑانے والی عورت بروز محشر کس منہ سے آقاءؐ دوجہاں کی صاحبزادی کے سامنے پیش ہو سکے گی، کن اعمال کے بدلے جنت طلب کرے گی؟ اور کیسے شفاعت طلب کرے گی؟