الیکشن کمیشن آف پاکستان کی چکوال میں نئی حلقہ بندیاں،ساٹھ64اور 61کو 65کردیا

چکوال(ڈسٹرکٹ رپورٹر) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابقہ حلقہ این اے ساٹھ جو اب حلقہ این اے64 اور سابقہ حلقہ این اے 61جو اب65ہے ان کی نئی حلقہ بندیاں کر دی ہیں۔ نیا حلقہ 64اب میونسپل کمیٹی چکوال، قانگو حلقہ ایک، چکوال حلقہ قانگو 2، منگوال، ڈھڈیال، خانپور، کریالہ ،نیلہ پر مشتمل ہے۔ جبکہ مریدگاؤں 64میں ہے۔ میونسپل کمیٹی بھون، تحصیل چوآسیدنشاہ کے علاوہ قانگو حلقہ کلر کہار میں کھائی، کرولی، کھنڈوعہ، خیرپور اور کھوکھر بالا بھی نئے حلقہ این اے64میں شامل ہونگے۔ یہ حلقہ سات لاکھ 46ہزار 621 کی آبادی پر قائم کیا گیا ہے۔ اُدھر حلقہ 65چکوال 2میں تحصیل تلہ گنگ ، تحصیل لاوہ، بلکسر قانگو سوائے مریدگاؤں کے ، میونسپل کمیٹی کلر کہار، قانگو حلقہ بوچھال کلاں اور پورا علاقہ ونہار شامل ہے۔ یہ حلقہ 7لاکھ49ہزار361کی آبادی پر قائم کیا گیا ہے۔ ان نئی حلقہ بندیوں سے ضلع چکوال کا سیاسی منظر نامہ یکسر بدل گیا ہے، علاقہ ونہار حلقہ این اے ساٹھ کی سیاست کا بڑا مرکز تھا جہاں پر صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم سیتھی کی رہائشگاہ بھی ہے۔ اس حوالے سے یہ حلقہ اب تحصیل تلہ گنگ کیساتھ حلقہ این اے65میں کر دیا گیا ہے۔ ضلع چکوال کی سب سے بڑی سیاسی قوت سردار غلام عباس واپس اپنے سابقہ حلقہ میں ہی برقرار ہیں البتہ سردار ذوالفقار دلہہ ایم پی اے واپس چکوال اپنے گھر آگئے ہیں۔ فوزیہ بہرام کا آبائی قصبہ نیلہ بھی واپس چکوال آگیا ہے۔ پیر وقار حسین کرولی نئے حلقے میں جانے سے بچ گئے ہیں۔ ملک اختر شہباز بھی نئے حلقے میں چلے گئے ہیں۔ بہرحال وسیع پیمانے پر مزید توڑ پھوڑ ہوگی۔