خداکے گھر دیرہے اندھیر نہیں

تحریر۔ممتاز خان ہالینڈ

خداوند نے اس دنیا میں کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جس کا کوئی مقصدنہ ہو اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر چیز کا فائدہ آخر کار انسان کو ہی ہوتا ہے ، ایک سانپ کی مثال ہی لے لیجیے جس کو ہم اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتے ہیں،جہاں کہیں یہ بے چارہ نظر آئے لوگ مارنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں سانپ آبادی کی طرف صرف کھانے کی تلاش میں آتا ہے،چوہے عام طور پر آبادی میں پائے جاتے ہیں،چوہا اس کی من بھاتی غذا ہے اسی لیے ان کی تلاش میں کبھی کبھی آبادی کی طرف نکل آتا ہے،آدمی کو کاٹنا اس کی فطرت میں نہیں، جب اس کی اپنی جان کو خطرہ ہو تو بادِل ناخواستہ لڑ پڑتا ہے،ورنہ وہ حضرت انسان کو دیکھ کر بھاگنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے،نئی تحقیق کے مطابق اگر ایک دن میں اگر ساری دنیا میں ایک سو (100)انسان اس کے کاٹنے سے مرتے ہیں تو لاکھوں مریض روزانہ اس کے زہر سے صحت یاب ہوتے ہیں اسکا زہر بے شمار دواؤں میں استعمال ہوتا ہے یہ تو ایک مثال تھی کہ ہر چیز انسان کے لیے پیدا کی گئی اور ان چیزوں کی حفاظت ہمارا فرض بنتا ہے،حتیٰ کہ سانپ اور بچھو تک کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح انسان کو فائدہ پہنچاتے ہیں،اسی لیے ان کا زندہ اور قائم رہنا کتنا ضروری ہے یہ تو ایک جانور ہے جس کے بارے مثبت اور منفی دونوں طرح کی سوچ ہو سکتی ہے اس کے علاوہ قدرت نے زمین پر اور بے شمار قسم کی چیزیں پیدا کی ہیں جو بے شمار خوبیوں کے علاوہ خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں ان میں پہاڑ سر فہرست ہیں’’پہاڑ زمین پر میخوں کا کام کرتے ہیں‘‘(قرآن کریم)۔پھر ان پہاڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے
logo mumtaz khan1 ان پر درخت لگائے جو عمارت میں سریے کی طرح ان پہاڑوں کو مضبوط رکھتے ہیں ان میں پتھر جو بجری یا کرش کا درجہ رکھتے ہیں،مٹی،پتھر اور درخت مل کر جو عمارت قدرت نے کھڑی کی جو زمین پر مبخ اور ہماری زمین کو خوبصورت بنانے کے لیے سرسبز عمارتیں کھڑی کیں،جن پر چھوٹے موٹے درخت جہاں کئی دوسری مخلوق خدا نے اپنے گھر بنا رکھے ہیں،وہاں وہ مخلوق رہتی ہے،جو اناج اور کھانے پینے کی اشیاء زیادہ منافع کے لیے زخیرہ اندوزی نہیں کرتی،جو خدا کی ذات پر اتنا یقین رکھتی ہے کہ جس نے آج رزق دیا ہے وہ کل بھی دیگا،اور اسی یقین سے صدیوں سے زمین پر رہ رہی ہے،ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ اس مخلوق نے کبھی بھوک سے جان دی ہو،وہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے،جو ملا اسی پر صبر شکر کر لیتے ہیں،یہ ازل سے ابد تک انسان کے ساتھ پر امن رہ رہے ہیں،انسان پر ایسی کون سی مصیبت آن پڑی ہے کہ وہ ان کو ختم کرنے پر تُل گیا ہے،پہاڑ اس کی آنکھ کا کانٹا بن گئے ہیں،درخت کو یہ دیکھنے تک کاروادار نہیں،آج کے انسان نے انسان کا خون تک نچوڑ لیاہے،اب یہ حوس پرست درختوں اور پہاڑوں تک کو ہضم کرنے کے درپے ہے،جس کی ایک زندہ مثال ضلع چکوال کے علاقے ونہار،کہون اور جھنگڑ وادی کے سر سبز اور خوبصورت پہاڑ ہیں،ان پہاڑوں کی حفاظت کی بجائے ان کو سرے سے ختم کر رہا ہے جس طرح انسان اپنے گردے بیچ کر کبھی مکمل صحت مند نہیں رہتا ،معلوم نہیں ہمارے صاحب اقتدار لوگ ان پہاڑوں کے دل گردے نکال کر پاکستان کو کیسے مضبوط کریں گے،افسوس کا مقام ہے کہ یہ ہمارے ملک کے دل گردے ان کو عطیہ کر رہے ہیں جو پاکستان کے کبھی دوست نہیں رہے ضلع چکوال کا وہ علاقہ جس کو یہ تباہ کر رہے ہیں (قدرتی)خوبصورتی میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے،یہ پہاڑ ضلع چکوال میں آپ کہیں بھی ہوں دور سے مسکراتے نظر آتے ہیں اگر یہ پہاڑ نہ ہوتے تو شاید ضلع چکوال اتنا خوبصورت نہ ہوتا،پتہ نہیں وہ کونسی بدبخت اور حوس پرست آنکھ تھی جس نے ان کو ختم کر کے دولت بٹورنے کا منصوبہ بنایا،اور وہ کونسے چکوال کے حسن کو ختم کرنے کے منصوبے میں شامل ضمیر فروش تھے،جنہوں نے چکوال کے قدرتی حسن کو ختم کر کے اپنی تجوریاں بھرنے میں لگ گئے ،آج ہزاروں لوگ ان حوس پرست اور بے ضمیر لوگوں کے اس چکوال دشمن دھندے سے ہزاروں بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں،علاقہ کیمیائی آلودگی سے اٹا پڑا ہے،جانور اور چرند پرند دن بدن ختم ہو رہے ہیں،فیکٹری مالکان اپنا کاروبار بڑھانے کے چکر میں پڑے ہیں،یہ پہاڑ وہ جتنا جلدی ہو سکے ہڑپ کر کے اڑ جانے کے چکر میں ہیں،اور حکومت کی غیر ذمہ داری دیکھیے کہ وہ اندھا دھندان کے منصوبوں کو نئے لائسنس جاری کر رہی ہے،یہ بصیرت اور بصارت سے محروم حکمران یہ سمجھ ہی نہیں رہے کہ آنے والے وقتوں میں یہ خوبصورت علاقہ ہیروشیما اور ناگا ساکی سے بھی بد تر اثرات چھوڑے گا،یہاں ہزاروں لوگ آنے والے وقتوں میں سسکیاں لے لے کر مریں گے،یہ فیکٹریاں چلانا (اس حالت)میں انسانوں کا قتل عام ہے،اس قتل عام کی ذمہ داری آلودگی پھیلانے والوں ا ور حکومت پر عائد ہو گی،جس کی قیمت بہر حال انہی کو چکانی ہو گی اس کے علاوہ ضلع چکوال کے با اثر لوگ اور منتخب اراکین اسمبلی مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں،ان کی خاموشی ان شبہات کو تقویت دے رہی ہے کہ شاید یہ لوگ خاموش رہنے کی قیمت وصول کر چکے ہیں یا وصول کر رہے ہیں،ورنہ ان لوگوں نے تو چکوال کو بہتر بنانے کے نعرے پر ووٹ لیے تھے چکوال ضلع کے لوگوں کو سب سے پہلے صحت کی ضرورت ہے،جو ان لوگوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں،ہسپتالوں میں لوگ دھکے کھا رہے ہیں،دوائیں غائب ،مشینیں خراب،ایمبولینس غائب یا خراب،ڈاکٹر تنخواہیں سرکار سے اور کام اپنے کلینکوں میں کرتے ہیں اگر کوئی مریض آئے تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے سر سے فارغ کریں،اور پنڈی لے جانے کی تجویز دیتے ہیں،خود میرے ایک عزیز کے ساتھ ایسا ہی کیا،جس کی قطعاََ ضرورت نہیں تھی یہ لوگ ایمبولنسوں والوں سے ملے ہوئے ہوتے ہیں اس سارے نظام میں منتخب لوگوں کا کوئی کردار نہیں ان عوامی نمائندوں کا احتساب ضرور ہو گا،آنے والا سیاسی دنگل دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیگا،لوگ ہاتھ میں لٹھ لیے تیار کھڑے ہیں ،اللہ کرے کوئی افتخار چوہدری اس نظام کے آگے سیسہ پلائی دیوار بننے کے لیے میدان میں آئے،ایسا ضرور ہوگا کیونکہ خدا کے گھر دیرہے اندھیر نہیں،ایک ایسا دن ضرور آئیگاکہ جب قدرت کی لاٹھی حرکت میں آئے گی اور اس دن ان سب کا بھرپور یوم حساب ہوگا۔