الٹے مشورے۔ٹی ایچ کیو اور سٹی ہسپتال کو ضم کرنا ممکن نہیں۔اورینٹ کالج کی تقریب انعامات

تحریر ۔۔۔محسن قیوم شیخ
محترم قارئین تلہ گنگ میں ویسے تو بہت تبدیلی آچکی ہے اس کو ماڈل سٹی بنانے کا کام باقی رہ گیا ہے ،پہلے تو وزیراعظم میاں نواز شریف نے تلہ گنگ کی عوام کو اگے لگائے رکھا اور ووٹ لینے کے لئے ان کو تلہ گنگ تشریف لانا پڑی، لیکن جب ان کو ووٹ مل گئے تو ان کے پاس تلہ گنگ آنے کا ٹائم بھی ختم ہو گیا تلہ گنگ کی عوام بھی کتنی سادہ ہے کہ جو جہاں لگائے وہی انکھیں بند کر کے لگ جاتی ہے 5مئی کو جب وزیر اعظم تلہ گنگ تشریف لائے تو اس میں کچھ عجیب نہ تھا اور نہ ہی تلہ گنگ کی عوام کے بغیر ان کی زندگی کا پل پل مشکل سے گزر رہا تھا ان کے ذہن میں کسی نے یہ بات ڈال دی کہ تسی نہ آئے تو تلہ گنگ ہاتھ سے گیا اس پر انہوں نے تلہ گنگ کی عوام پر احسان کرتے ہوئے تلہ گنگ تشریف لانا ضروری سمجھا اور پھر ان کو کسی نے الٹا مشورہ یہ دے دیا کہ اگر تسا ضلع تلہ گنگ کا نعرہ نہ لگایا تو تلہ گنگ ہاتھ سے گیا اور وہ نیک مشورہ دینی والی ہستی آج کل دیواروں کو پینٹ کرنے میں مصروف ہے ،شاہد ضلع تلہ گنگ بنے کے بعد پورے تلہ گنگ کو پینٹ کرنے کا ٹھیکہ بھی ان کو ہی مل جائے ۔آج کل تلہ گنگ میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے کہ سٹی ہسپتال اور ٹی ایچ کیو ہسپتال کو ضم کیا جائے آخر یہ الٹے مشورے کون صاحب اقتدار کو دیتا ہے کیا وہ ہسپتالوں کو اکٹھا کر کے کون سی نئی سائنس ایجاد کر نا چاہتے ہیں جبکہ یہ ہر لحاظ سے غیر قانونی عمل ہے اس سے قبل بھی ایسی کوشش کی گئی جب مسلم لیگ ق کا دور تھا اس وقت ای ڈی اوڈاکٹر اقبال اعوان پر بھی شدید دباو ڈالا کہ آپ اس کو تجویز کر دیں مگر انہوں نے انکار کر دیا تھا ان کے مطابق اگر ان دونوں ہسپتالوں کو ضم کر بھی دیا جائے تو یہ چیلنج ہو  Mohsin Talagangسکتا ہے یہ کیسی منطق ہے کہ تلہ گنگ کی آبادی جیسے جیسے بڑھ رہی ہے بجائے اس کے کہ ہسپتالوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے مسلم لیگ ق کے رہنما حافظ عمار یاسر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے کارناموں پر ہنسی آتی ہے ،ٹی ایچ کیواور سٹی ہسپتال کو ضم کرنے والا منصوبہ سمجھ سے بالاتر ہے جس کی بھرپور مخالفت اور سازشی عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ منفی سوچ رکھنے والے تلہ گنگ کی عوا م کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر کے عوام دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال ہر سب ڈویثرن میں موجود ہے اور اس کے ذریعے تمام چھوٹے ہسپتالوں کو دوائیوں کی ترسیل کی جاتی ہے اس ہسپتال کے خاتمے پر تلہ گنگ کی سات لاکھ کی آبادی کدھر کا رخ کرے گی،ٹی ایچ کیو ہسپتال ساٹھ بستر وں پر مشتمل ہے ہے اس میں مستقبل کا میڈیکل سٹاف سکول کا اجرا ہونا چاہئے لیکن یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ ایک چلتا پھرتا ادارہ بند کر دیا جائے مسلم لیگ ن کی حکومت نے تلہ گنگ کی عوام کو دیا تو کچھ نہیں مگر تلہ گنگ والوں سے ان کا اکلوتا ہسپتال چھین لینا چاہتی ہے سٹی ہسپتال چوہدری پرویز الہی کا تلہ گنگ کی عوام کے لئے ایک تحفہ تھا جس کو آج دسپنسری بنا دیا گیا ہے میاں برادران تلہ گنگ اور لاوہ کی عوام کو لاہور کا شہری ہی سمجھیں انہوں نے اس بات پر روز دیا کہ تلہ گنگ شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین ہے ان سے ان کا سرکاری ہسپتال چھین لینا منفی سوچ اور سازش کا نتیجہ ہے لیکن مسلم لیگ ق اس منصوبے کو مسترد کرتی ہے اور اس کے لئے سڑکوں پر بھی آنا پڑا تو دریغ نہیں کریں گے۔۔جس کے ردعمل پر مسلم لیگ ن کے رہنما حکیم یاسر عزیز نے اپنا ایک بیان داغ دیا کہ ہسپتالوں پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دیں گے ۔یہان بھی یہی منطق سمجھ آئی ہے کہ الٹا مشورہ دینے والے ابھی زندہ ہیں اور اسٹنٹ کمشنر کو جہاں لگا دیا وہ جناب دیر نہیں لگاتے ان کی اپنی سو چ شاہد کام نہیں کرتی ان کو معلوم نہیں کہ اگر کھبی مسلم لیگ ن کی حکومت نے غصہ کر دیا اور تلہ گنگ ضلع بن گیا تو آپ کے پاس ڈسٹرک ہسپتال کے لئے ایک بڑی جگہ ہونا چاہئے جو ٹی ایچ کیو کی شکل میں بہترین جگہ موجود ہے جبکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ روزانہ ایک ہزار او پی ڈی ایک جگہ کی جائے اور سب سے بڑھ کر کہ گائنی مریضوں کو یہ سہولت ہے کہ دونوں ہسپتالوں میں مختلف اوقاتوں میں اپریشن کئے جاتے ہیں جس سے غریبوں کو فائدہ ہو تا ہے امیروں کے لئے تو پنڈی آسلام آباد میں بڑے ہسپتال مو جود ہیں ۔انتظامیہ یہ اقدام اٹھانے کے لئے تو بڑی بے تاب ہے لیکن یہ قدم اٹھانے میں کیوں تکلیف ہوتی ہے کہ تلہ گنگ کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں دوائی اورڈاکٹرز کی کمی ہے یہاں ان کا کردار کہاں جاتا ہے کیا یہ فضول کام جس کا کوئی سر پیر نہیں جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہو گا یہی ان کا کام رہ گیا ہے عوام سے دشمنی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی الٹے مشورے دینے والے مشورے اپنے پاس رکھیں ۔گذشتہ روز تلہ گنگ اورینٹ کالج تلہ گنگ میں پروقار تقریب انعامات تقسیم منعد ہوئی جس میں سالانہ پوزیشن ہولڈرز کو شیلڈز اور سکالرشپ سے نوازا گیا اس پروگرام میں بچیوں نے محتلف ڈراموں پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا اس کے مہمان خصوصی ڈی ایس پی تلہ گنگ جبکہ دیگر مہانوں میں ڈاکٹر علی حسنین نقوی،چوہدری غلام ربانی،ملک عامر نواز،ملک عمران دندی،نوید ڈروٹ ،پروفسر طارق جاوید ،فاروق اعوان،و دیگر معززین شہر نے شرکت کی اس موقع پر اورینٹ کالج کے سربراہ محمد بلال قریشی نے کہا کہ میں نے جو آج سے پندرہ سال پہلے ایک پودہ لگایا تھا وہ آج ایک تناور درخت بن چکاہے میں نے بچوں اور بچیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے کوشش جاری رکھی ہوئی ہے یہ سب میری والدین کی دعا ئیں ہیں اس موقع پر اورینٹ گرلز کالج کی پرنسپل سملی رعنا نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔۔وعا کا طالب محسن قیوم شیخ