لمحہ فکریہ ۔۔ضلع تلہ گنگ کھڈے لائن ۔ ممتاز قادری تیری عظمت کو سلام۔۔

تحریر محسن قیوم شیخ
محترم قارئین اس وقت ملک جن حالات سے گزر رہا ہے وہ ہم سب کے لئے لحمہ فکریہ ہے اس ملک میں نہ حکمرانوں میں انسانیت رہی نہ اس عوام میں میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم عوام نے ہمشیہ ملک لوٹنے والوں کو سروں پر لا بٹھایا ہے معلوم ہونے کے باوجود بھی ہم دوبارہ ان پر ترس کھا کر ان کو ووٹ دے دیتے ہیں کہ شاہد اس بار ان کو عقل آگئی ہو لیکن اس بار وہ کچھ زیادہ عقل مند اور ہوشیار ہو جاتے ہیں اور ملک میں ایسے ایسے قانون بنا لیتے ہیں کہ انسان کو ہنسی آ جائے جس کی ایک تازہ مثال تحفظ حقوق نسوان بل ہے جس میں عورتوں پر تشدد کر نے والوں کو سزا اور جرمانے کے ساتھ ساتھ 2دن گھروں سے باہر گزارنہ ہو گئے جس کے لئے ان کی مانیٹرنگ کے لئے کڑا بنا یا گیا ہے جو ان کی لوکیشن بتائے گا اب کیا ہمارے پیارے دین اسلام میں پہلے ہی اس کی ممانعت نہیں کہ اپنی بیویوں پر نہ اٹھاو اور ان کی عزت کیا کروں کیا یہ جو نیا قانون بنایا گیا ہے اس سے کیا معاشرے میں سدھار آٗئے گا یا الٹا بگاڑ پیدا ہو گا ۔کیا جو شوہر دو دن باہر گزارے گا اور دو دن بعد گھر آئے گا بھر اس کی بیوی کہاں جائے گی کسی کو معلوم ہے وہ آدمی اس کو طلاق دے کر فارغ کر دے تو عورت کا تو مستقبل تباہ ہو گیا ۔ایسے اندھے قانون بنانے والوں کی عقل پے ہسنی آتی ہے لیکن ان کو کیا ان کو بیرونی آقاوں سے ڈالر جو لینے ہیں ۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب کسی کا برے وقت آتا ہے تو وہ الٹی الٹی Mohsin Talagangغلطیاں کرتا ہے مسلم لیگ ن کی حکومت سے جس کسی نے بھی امیدیں لگائی ہو ئی تھی وہ اہستہ اہستہ دم توڑ چکی ہے مسلم لیگ ن جب سے حکومت میں ائی ہے اس نے ملک کو مقروض کر دیا ہے یہاں تک کہ ملک میں لاہور اور پنڈی میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جا رہا ہے میٹرو اور اورنج ٹرین کے لئے پاکستان کے غریبوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں آ رہی کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں ۔وزیر اعظم کی ان تین سالو ں میں چار مرتبہ ضلع چکوال امد اور ضلع تلہ گنگ کا اعلان کئے بغیر واپس چلے جانا بھی افسوسناک عمل ہے جبکہ ان کا تلہ گنگ کو ایک پائی کی گرانٹ بھی نہ دینا بھی عوام محلضی کا ثبوت ہے گذشتہ روز بھرپور میں عبدلرزاق جامی کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کے وزیراعظم بھرپور تشریف لائے جہاں تلہ گنگ سے کوئی بھی ایم این اے اور ایم پی اے موجود نہ تھا سوائے مشیر وزیر اعلی پنجاب ملک اقبال کے ۔جامی صاحب نے جب بھرپور کے کئے گرانٹ مانگی تو وزیر اعظم نے کہا کہ میںآپ کی گرانٹ ساتھ لے کر آیا ہوں جس پر ملک سلیم اقبال نے بھی دھیمے لہجے سے کہا کہ آپ نے پانچ مئی کو ضلع تلہ گنگ کو اعلان کیا تھا عوام کا اس بارے میں برا پریشیر ہے جس پر نواز شریف نے کہا کہ مجھے یاد نہیں مجھے لکھ کر دیں لیکن مشیر صاحب نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے وہی ان کو تحریر ی طور پر لکھ دیا لیکن تلہ گنگ کے صحافی جو ضلع تلہ گنگ کے حوالے سے لکھ لکھ کر تھک ہار کے بیٹھ گئے پتہ نہیں ان کا لکھا کون پڑھتا ہو گا نواز شریف کا چوتھی بار ضلع میں آنا اور ایک پائی بھی نہ دینا اور جامی صاحب کو زاتی تعلق پر ایک کروڑ بیس لاکھ کی گرانٹ دے جانا تلہ گنگ کی عوام کے منہ پر روز دار تمانچہ ہے شاہد وہ عوام اب ہوش کے ناخن لے۔ممتاز قادری کو مسلم لیگ ن کی حکومت نے جس طرح پھانسی دینے میں جلدی کی وہ کسی بیرونی ملک کی خوشنودی ہو سکتی ہے تلہ گنگ میں بھی ممتاز قادری کو پھانسی دئیے جانے کے خلاف مظاہرہ کیا گیا جس میں عوام نے بھرپور شرکت کی اور حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور مسلم لیگ ن کے اقدام کی شدید مخالفت کی اور سب سے بڑھ کر کہ ملک طارق ایڈوکیٹ نے مسلم لیگ ن سے ناطہ توڑ دیا ہم سب کو بھی ایسی غیرت کرنی چاہئے کیونکہ اللہ نے عزت دین مین رکھی ہے ممتاز قادری نے آج پیارے محمد کے دین کا دفاع کرتے ہوئے آج امر ہو گیا یااللہ ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرما ۔آمین دعا کا طالب