قصہ ایک ملاقات کا

تحریر ممتاز خان
ہارون رشید کے زمانے میں ایک مشہور عالم دین جن کا پورا نام ذہن میں نہیں آ رہا ایک دن ان کو گھر کے کام کے لیے ایک مزدور کی ضرورت پڑ گئی وہ اس جگہ چلے گئے جہاں مزدور مزدوری کے لیے جمع ہوا کرتے تھے انہوں نے ایک نوجوان مزدور دیکھا جو خاصا کمزور تھا اس سے کام کی بات کی۔اس نے حامی بھر لی۔اور کہا کہ کام شروع کرنے سے پہلے آپ نے تین باتیں ذہن میں رکھنا ہوں گی ۔1۔میں اگر کام چار دن کا ہے تو تین دن میں ختم کردونگا۔اور مزدوری بھی تین دن کی ہی لونگا۔2۔جب نماز کا وقت ہو گا یعنی جب آذان ہوئی تو کام اسی جگہ چھوڑ کر نماز کے لیے چلا جاؤنگا۔3۔آپ مجھ سے کوئی سوال نہیں کرینگے۔اور میں جواب دینے کا پابند نہیں ہونگا۔شرائط بڑی مناسب تھیں وہ کیسے انکار کر سکتے تھے۔مزدور نے کام شروع کر دیا۔اس نے دو گھنٹے میں پورے دن کام کر دیا۔جیسے ہی مسجد سے آذان کی آواز آئی اس نے کام وہی چھوڑا اور نماز کی تیاری کر دی۔اس وقت ان بزرگوں کا بیٹا آیا توراستے میں مٹی کا ڈھیر دیکھ کر مزدور کو کہنے لگا کہ ذرا راستہ بنا دیجئے تا کہ میں گزر سکوں۔مزدور نے کہا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ نماز کا وقت ہے اس لیے پہلے نماز۔کیونکہ مجھے خدا بُلا رہا ہے۔اسکا حکم میرے لیے سب سے پہلے۔دن بھر مزدوری کی اور شام کو گھر جانے لگا تو عالم دین نے کہا کہ باقی کام کل کرنے آ جانا۔مزدور نے کہا کہ کل کا کوئی پتہ نہیں مجھے کہ میں زندہ ہونگا بھی کہ نہیں اس لیے وعدہ نہیں کرتا۔کیا آپ کو کل کا یقین ہے۔بزرگوں نے کہا مجھے بھی معلوم نہیں کہ کل میں ہونگا کہ نہیں۔دوسرے دن وہ بزرگ اسی جگہ اس کے لیے گئے تو وہاں وہ موجود نہیں تھا۔ددوسرے مزدوروں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ صرف ہفتے والے دن کام کرتا ہے۔دوسرے ہفتے وہ وہاں گئے تو وہ وہاں پھر نہیں تھا۔اِدھر اُدھر سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ وہ بیمار ہے۔دوسرے مزدوروں سے گھر کا پتہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ فلاں قبرستان کے پیچھے ایک کچی آبادی ہے وہ وہاں رہتا ہے۔وہ پوچھتے پوچھتے اس کے گھر پہنچ گئے۔ابھی دروازہ کھٹکانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ اندر سے اس نے ان بزرگوں کا نام لے کر کہا کہ آ جائیے۔وہ حیران ہو گئے کہ بغیر دیکھے اسے کیسے پتہ چلا کہ باہر میں ہوں۔اس نے پوچھا تو مزدور کہنے لگا کہ غریب کے گھر غریب ہی خیر خیریت پوچھنے آتا ہے۔بزرگوں نے خیریت پوچھی تو پتہ چلا کہ اس کو سخت بخار ہے مزدور نے کہا کہ آپ میرا ایک کام کرینگے۔بزرگوں نے حامی بھر لی۔اس نے دائیں جیب میں ہاتھ ڈال کرتین دینار نکالے اور عرض کی کہ میں نے آج مر جانا ہے آپ نے کل اس رقم سے میرا کفن اور قبر کھدوانی ہے۔اس کے بعد اس نے دوسری جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک ہیرے کی انگوٹھی نکالی اور عرض کیا کہ یہ انگوٹھی آپ خلیفہ وقت ہارون رشید تک پہنچا دیجئے۔وہ ایسے آپ کی بات نہیں سنے گا۔اگر آپ اس کو کہیں گے کہ میرے پاس تمہاری ایک امانت ہے تو مان جائیگا۔یہ کہہ کر وہ چپ ہو گیا۔اور بزرگ رنجیدہ ہو کر گھر آ گئے دوسرے دن وہ اس بستی میں دوبارہ گئے تو وہ محلہ خوشبوؤں سے معطر تھا۔جیسے کسی نے ہر طرف گلاب کا عطر چھڑک کر رکھا ہے۔اس کے جنازے پر لوگ جو درجوق معلوم نہیں کہاں کہاں سے آ رہے تھے۔دفن کرنے کے بعد حسب وعدہ وہ انگوٹھی واپس کرنے کے لیے ہارون رشید کو تلاش کرنے نکلے ۔اتفاق سے وہ شکار کے لیے جاتیہوئے راستے میں مل گیا۔آپ نے اس کے کان میں کہا کہ میرے پاس آپ کی امانت ہے۔وہ ان بزرگوں کو ایک طرف لے گیا۔آپ نے اس کو انگوٹھی واپس کی تو اس نے کہا کہ انگوٹھی والا کدھر ہے۔بزرگوں نے ساری بات بتائی کہ وہ مزدور اب اس دنیا میں نہیں ہے۔میں خود اس کو دفن کر کے آ رہا ہوں۔اس نے روتے ہوئے درخواست کی کہ مجھے قبر تک لے جائیے۔جب اس نے قبر دیکھتے تو لپٹ کر دھاڑیں مار کر رونے لگا۔بزرگ حیران ،پریشان یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ان سے نہ رہا گیا۔عرض کی خلیفہ وقت یہ کیا ماجرہ ہے۔کہ مزدورکی موت پر اتنا غم۔ہارون رشید نے روتے ہوئے کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔جو محل سے یہ کہہ کر چلا گیا کہ والد بزرگ اس ساری بادشاہی کا مالک حقیقی کے پاس کیسے جواب دو گے۔میں محل میں نہیں رہتا میں اس طرح کی زندگی گزاروں گا۔کہ حساب دینا پڑے تو دے سکوں۔اب آتے ہیں آج کے امیر المومنین کی طرف۔کہ جس نے نہ صرف خود بلکہ اپنی اولاد سمیت جہنم اسی دنیا میں ہی اپنے لیے خرید لیا ہے۔عربوں روپے ایک غریب ملک کی غریب عوام کے چوری کر کے باہر ملکوں میں پراپرٹی بنا لی ہے۔اس کا دوغلہ پن ملاحظہ فرمائیے۔ہر سال کئی کئی بار مسجد نبوی اور حرم میں جاتا ہے۔جب جوابدیہ کا وقت آیا تو اس کی ڈھٹائی دیکھیے کہہ رہا ہے مجھے تو معلوم ہی نہیں مجھ پر مقدمہ کیوں بنایا گیا ہے۔میں نے تو کوئی چوری نہیں کی۔اگر چوری نہیں کی تو یہ عربوں کھربوں کی جائیداد کہاں سے لی۔سپریم کورٹ تو صرف یہ پوچھ رہی ہے۔جسکا جواب یہ نہیں دے رہا۔یہ بالکل چور مچائے شور والی بات ہے۔یہ پاکستان بھی وہ نہیں اور نہ وہ عوام ہے۔اب وقت بدل چکا ہے۔خدا کی نگری میں دیر ہے اندھیر نہیں اب لیگی قلعے والے بھی ہوش کے ناخن لیں یہ سیمنٹ فیکٹریوں سے ٹھیکوں کی شکل میں لاکھوں،کروڑوں ماہانہ آمدن ان کو بہت مہنگی پڑے گی۔حساب کی گھڑی آ گئی ہے چکوال کے لوگ ماحول کو آلودہ کرنے والے اڈے اور سیمنٹ فیکٹریوں سے اٹھنے والی زہریلی گیسوں سے موت کے منہ میں جانے والے لوگ حساب کے لیے تیار کھڑے ہیں۔تمام شیر شاہ سوری اور بے شمار دوسرے القاب پانے والے لوگ بے رحمانہ احتساب کے لیے تیار ہو جائیں۔ابتدا ہو چکی ۔سر قلم ہو چکا اب باقی جسم کی باری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔