کینسر میں جکڑا ضلع چکوال

تحریر: ممتاز خان ہالینڈ

شہیدوں اور غازیوں کی زمین ضلع چکوال کینسر کے مرض میں بری طرح مبتلا ہوگئی ہے،اور ہمیشہ کی طرح کینسر میں مبتلا ضلع کے لوگ اس مرض کو محسوس نہیں کر رہے ،اس موزی مرض کی خاصیت یہ ہے کہ اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب مرض تقریبا لا علاج ہو چکا ہوتا ہے ،اس وقت عزیز و اقارب صرف مریض کی تسلی کے لیے علاج معالجہ کراتے رہتے ہیں،تا کہ مریض دل نہ چھوڑ دے ،اپنے طور پر عموما دونوں مرض کی شدت کو جانتے ہوتے ہیں اگر کسی کی قسمت اچھی ہو تو مرض بروقت تشخیص ہو جاتا ہے،اس کے علاوہ یہ چیز بھی بڑی اہم ہوتی ہے،کہ خاندان کے کسی فرد کو یہ مرض لا حق ہے،اگر تو گھر کا کوئی سرکردہ آدمی ہو تو علاج کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی جاتی ہے۔لیکن اگر کوئی صرف گھرانے کا عام فرد ہو تو اس مرض کو ذرا لائیٹ لیا جاتا ہے،بس رسماً علاج شروع کرایا جاتا ہے،اس طرح کے کئی کیس میں نے دیکھے ہیں،نتیجہ دونوں صورتوں میں ایک ہی طرح کا ہوتا ہے،زیادہ توجہ والا مریض زندگی کے کچھ دن زیادہ حاصل کر لیتا ہے۔ضلع چکوال کی بیماری کی جن لوگوں کو فکر ہونی چاہیے تھی وہی لوگ اس کی بیماری کی وجہ بنے اور اس کی پونجھی پر ہاتھ صاف بھی کر رہے ہیں،جب یہ ضلع نزع کے عالم میں جائیگا تو یہ مریض لوگ کسی دوسری جگہ یہی دھندہ شروع کر دینگے اور یہاں کے مجبور لوگ دمہ، کینسر اور پھیپڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر تڑپتے ہو ئے جان دے دینگے،یہ بیماریاں نسل در نسل چلتی رہیں گی،یہ لگا ہوا کینسر صرف انسان کو ہی نہیں بلکہ ہر چیز کو ملیا میٹ کرتا جائیگا،انسانوں کے ساتھ چرند پرند اور زمین تک جل جائیگی،وہ بھی اس قدر کہ کبھی کوئی چیز اس پر حتیٰ کہ گھاس تک نہیں اُگے گی،اب آتے ہیں کہ یہ کینسر کس طرح ہوا کس وجہ سے ہوا اور اس گناہ کے کون ذمہ دار ہیں،جواب بالکل سادہ ہے،شروع اس کو ایک ایسے اقتدار کے بھوکے ڈکٹیٹر نے اقتدار کو طول دینے کے لیے سرمایہ داروں کو اپنا ہمنوا اور ان سے مالیlogo mumtaz khan1 فائدے اٹھانے کے لیے اپنے گرد اکٹھا کیا،اس کے علاوہ بلدیاتی لوگوں کے ساتھ مل کر چکوال کے پہاڑوں کو صفحہء ہستی سے مٹانے کے لیے سیمنٹ فیکٹریوں کو یکے بعد دیگرے بغیر سوچے سمجھے پرمنٹ جاری کیے۔فیکٹریوں کی وجہ سے انسانی جانو ں اور زمین کے نقصان کو بالکل نظر انداز کر دیا،بس کاغذی کاروائی کر کے تعمیر شروع کرا دی،لوگوں کو اپنی سادگی کی وجہ سے ان فیکٹریوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔وہ لوگ ان کی عیارانہ اور میٹھی میٹھی باتوں میں آ گئے کہ ان کا علاقہ ترقی کریگا،ان کو اور آنے والی نسلوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے ۔بے چارے چکوالیے جو اس ملک کی فوج میں جا کر ملکی دفاع کے لیے کام کرتے تھے ان کی چالوں میں آ گئے،کہ گھر بیٹھے روزگار مل رہا ہے تو پھر فیکٹریاں لگنے میں حرج کیا ہے،ستم برائے ستم کہ بلدیاتی انتطامیہ نے انکو ورغلانے میں زمین آسمان کے قلابے ملائے در اصل ان منتخب بلدیاتی لوگوں نے اپنے ریٹ بڑھانے کے لیے شور و غل کیا۔اس کے بدلے فیکٹری مالکان سے طرح طرح کے ٹھیکے لے کر دولت کے انبار لگانے شروع کر دیئے۔غریب اور سادہ لوگ ان کی چالیں تو نہ سمجھ سکیں ۔ان لوگوں کا سیمنٹ فیکٹریاں لگنے سے پہلے اور فیکٹریاں لگنے کے بعد زندگی اور اثاثو کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس طرح ہماری شہیدوں اور غازیوں کی خوبصورت زمین کو کینسر کے چار ٹیکے مختلف جگہ لگائے گئے۔شور شرابہ کرنے والے لوگ اس بیماری سے متاثر تو ہو رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ دولت کی شکل میں بظاہر میٹھی دوائی بھی ضرو ر لے رہے ہیں،لیکن یہ محسوس نہیں کر رہے کہ غریب لوگوں کے ساتھ ساتھ یہ خود بھی اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔دولت کی حوس کی وجہ سے وہ علاقہ چھوڑ بھی نہیں سکتے نظام قدرت ہے ورنہ میرے خیال میں تو تمام بیماریاں ان لوگوں کو لگنی چاہیے جو اس مصیبت کی وجہ بنے ۔یہ لوگ ایئر کنڈیشن کمروں اور کاروں میں گھوم کر لوگوں کی بے بسی کا مذاق اڑا رہے ہیں،جہاں تک روزگار ملنے کا سوال ہے تو آپ ان فیکٹریوں میں مقامی لوگوں کی تعداد معلوم کر سکتے ہیں،افسوس ہماری اپنی بے حسی کا کہ یہ لوگ چند پودے اور کچھ صاف پانی کی بوتلیں تقسیم کر کے اپنی انسان دوستی کا ڈھنڈورا پیٹھ رہے ہیں،لیکن وہ یہ نہیں سو چ رہے کہ یہ روزانہ کتنا پانی گندہ کرتے ہیں اور کتنا پانی اپنی فیکٹری میں خرچ کرتے ہیں ان کی مشینیں ہزاروں گیلن پانی روزانہ چوس رہی ہیں دوسرا یہ پودے کتنے لگاتے ہیں اور کتنے روزانہ دھماکوں کی وجہ سے ختم ہو رہے ہیں خدا نے زمین بنائی اور اس میں پہاڑ،دریا،خوبصورت وادیاں اور ان میں خوبصورت پھول اور ہوا میں چہچہاتے پرندے اور تتلیاں اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا نے کے لیے پیدا کیں وہ سب ان حوس پرست لوگوں کی حوس کا نشانہ بن کر مرمٹ گئے ہیں بارودی دھماکوں سے زمین میں دراڑیں پڑ گئی ہیں بڑے بڑے ٹریلر سڑکوں کو وقت سے بہت پہلے تباہ کر دیتے ہیں۔ہر طرف گرد و غبار کی وجہ سے علاقہ دھند نما نظر آتا ہے،انہی فیکٹریوں کی وجہ سے 2014میں کیے گئے سروے میں ضلع چکوال کا ماحول سب سے گندہ قرار پایا،حالانکہ اس سے پہلے یہ ضلع ونہار،کہون اور جھنگڑ ویلی سب سے صاف تھا،میں اس علاقے میں گیا ہوں یہ جگہ زمین پر جنت لگتی تھی،ہم نے اس جگہ کی قدر نہیں کی،گِدھوں نے اس خوبصورت زمین کو مُردار سمجھ کرنوچنا شروع کر دیا ہے،ہماری خوبصورت زمین جو ان گدھوں کا شکار ہو چکی ہے،وہاں اس جنت کی ہڈیاں دیکھی جا سکتی ہیں،وہ جگہ جہاں ہڈیاں پڑی ہیں وہ زمین ہمارے صاحب اختیار لوگوں اور دوسرے جو منہ بند کیے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں ان پر ماتم کر رہی ہے،اور فریاد کر رہی ہے کہ کیا میری گود میں کھیل کر پرورش پانے والو میری خدمت کا تمہارے پاس یہ صلہ ہے۔میرے بدن پر لباس(گھاس اور درخت)اور میری گود میں اٹھکیلیاں کرنے والے میرے بچے (جانور اور پرندے)تمہارے سامنے سسکیاں لے لے کر مرتے دیکھ کر تمہیں ذرا رحم نہیں آتا،کیا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ وہ بھی جینے کا اتنا ہی حق لے کر آئے ہیں،تم تو اشرف المخلوقات کا تاج سجائے پھرتے ہو،مجھے تخلیق تو خدا نے کیا ۔حفاظت تمہارے ذمے تھی۔کیا تم بھول گئے ہو کہ ایک دن تم نے جواب دینا ہے۔اٹھو تباہی کا باعث بننے والے کارخانے بند کرو۔ان کارخانوں کی جگہ پیسے کمانے والے دوسرے بہت سے ذریعے ہیں جن سے انسان اور دوسری مخلوقِ خدا کی بھلائی ہو سکتی ہے،اور تمہاری دولت کی حوس بھی پوری ہو سکتی ہے۔خدا کی بنائی ہوئی یہ زمین اور زیادہ رنگین اور خوبصورت ہو کر تمہاری روزی کا ذریعہ بن سکتی ہے،اس دنیا میں تمہاری بعد بھی مخلوق آئیگی،کیا تمہارے لیے صرف تمہارا جینا ہی اہم ہے،جب تم دنیا میں آئے تو سب سے پہلے تمہاری ضرورت سانس لینے کے لیے ہوا کی اور بعد میں پینے کے پانی کی تھی،تم اُن آنے والوں کے لیے جو سب سے ضروری ہے اسی کو خراب کر رہے ہو۔جن کے پاس بنگلے اور گاڑیاں نہ بھی ہوں تو وہ زندہ رہ سکتے ہیں لیکن ہوا جس کو میسر نہ ہو وہ چند سیکنڈ بھی زندہ نہیں رہ سکتا،تمہاری اس حوس پرستی سے آنے والی مخلوق کے لیے اس دنیا میں زندگی ممکن نہیں رہے گی،تمہاری دولت کے انبار ان کے لیے صاف ہوا کے مقابلے میں زیروہونگے،امریکہ کا ایک آدمی بجلی کی خرابی کی وجہ سے لفٹ میں قید ہو گیا،لفٹ میں موجود آکسیجن ختم ہونے لگی اس وقت اپنی دولت سے وہ آکسیجن خرید نہیں سکتا تھا،وہ مرنے کے قریب تھا کہ لفٹ کھل گئی،تو اس نے کہا کہ آج مجھے معلوم ہوا کہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز کون سی ہے،دومنٹ کی لفٹ کی قید نے مجھے سمجھا دیا ۔وہ فورڈ کمپنی کا شاید مالک تھا،یہ ایک دفعہ اخبار سے میں نے پڑھا۔چکوال کے نا خداؤں کو اس کا ادراک نہیں کہ ان کی مجرمانہ خاموشی ان کے لیے کتنی بڑی تباہی لانے والی ہے،چکوال کے ہر قبرستان میں اس ملک کے لیے جانیں قربان کرنے والے دفن شہداء ان سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ضلع چکوال کے منتخب نمائندے اپنے ضمیر بیچ کر ہماری شہادتوں کا سودا کر چکے ہیں،شہیدوں کے اس ضلع کو تو انعام ملنا چاہیے تھا ہماری جانوں کے نذرانوں سے تو ہماری آل اولاد کو صحت مند چکوال ملنا چاہیے تھا۔تم لوگ ان کو کیا دے رہے ہو،صاف ہوا اور پانی بھی چھین رہے ہو۔اب ہم پربھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو صاف ستھرا چکوال دیں،ہماری خاموشی آنے والے چکوال کو برباد کر دے گی،منتخب نمائندے صرف ذاتی مفاد کے لیے کام کر رہے ہیں جس کی تازہ مثال پاناما لیکس ہے۔ان کے سرمائے باہر،ان کی اولادیں باہر کا روبار باہر،یہ در اصل پاکستان لوٹ مار کے لیے آتے ہیں،یہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے عنقریب اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والے ہیں،ان سیمنٹ فیکٹریوں کامزید فروغ ضلع چکوال میں بند کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،چکوال میں کئی ادارے بلڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے کئی سالوں سے شروع نہیں کرائے جا سکے،انہی سیمنٹ فیکٹریوں کی عمارت کو ان کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے،کلرکہار میں کسی ایک کی عمارت کو انہی سے سرمایہ لے کر ایک وسیع ہسپتال،ایک یونیورسٹی اور ایک ایسا ادارہ جو زرعی زمین کو دوبارہ قابل کاشت اور پہاڑوں کا حسن واپس لائے اور تمام اخراجات اس نقصان کا سبب بننے والوں سے لیا جائے جو جو لوگ ان ماحول کی آلودگی کی وجہ سے بیمار ہوئے ہیں ان کو معاوضہ انہی لوگوں سے دلوایا جائے،پانی چونکہ وہاں تقریباً نایاب ہو گیا ہے،اس لیے انہی فیکٹریوں میں سے کسی ایک میں پانی صاف کرنے کا پلانٹ لگا کر علاقے کے لوگوں کو سپلائی کیا جائے اس سے کم کسی بات پر اہل چکوال کو راضی نہیں ہونا چاہیے۔
۔۔
کالم انتہائی آساں الفاظ میں لکھا گیا ہے،کیونکہ لوگوں کی فرمائش ہے کہ ہمیں یہ آسان تحریر سے ہی بات سمجھ آئے گی،ڈر کسی کو نہیں ہونا چاہیے،کیونکہ موت تو ایک دن آنی ہے،خوف میں رہ کر زندگی کال کوٹھڑی سے بھی بدتر ہے،بلکہ خوف میں رہنے سے موت اور قریب آ جاتی ہے،سچائی جہاد ہے ،جہاد میں مرنا شہادت ہے۔