گلاب صرف امیروں کے لیے نہیں

 تحریر:ممتاز خان ہالینڈ

سکندر اعظم ایک محاذ فتح کرنے کے بعد اپنے وزیروں کے ساتھ جشن منا رہا تھا کہ ایک وزیر نے عرض کی کہ کاش آپ کو کبھی موت نہ آئے،سکندر نے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ موت سے بچا جا سکے۔ایک وزیر نے انگلی اٹھا کر کھا کہ اگر سکندر اعظم آب حیات پی لیں تو موت کبھی نہیں آئیگی۔لیکن وہ پانی(آب)ہے کہاں۔ایک وزیر نے عرض کی کہ بہت دور دو پہاڑوں کے پیچھے ایک چشمہ ہے۔لیکن وہاں تک رسائی نا ممکن ہے کیونکہ دونوں پہاڑ آپس میں ٹکراتے ہیں پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں پھر ٹکراتے ہیں وقفہ بہت کم ہے بہت سے آدمی دونوں کے درمیان پس لقمہء اجل ہو چکے ہیں۔یہ کام نا ممکن ہے۔نا ممکن کا لفظ سکندر کی ڈکشنر ی میں تھا ہی نہیں۔قصہ مختصر سکندر زندگی دینے والے چشمہ پر پہنچ گیا۔جب پانی پینے کے لیے ہاتھ بڑھائے تو آواز آئی ’’اوں ہوں‘‘سکندر نے ہاتھ روک کر اِدھر اُدھر دیکھا۔تو کوئی نہیں تھا۔دوبارہ ہاتھ بڑھائے تو پھر اسی آواز نے منع کیا۔سکندر کو غصہ آ گیا اور گرج کر کہا کہ سامنے آؤ ،جانتے نہیں میں کون ہوں۔ایک ہی تلوار کے وار سے تمہار سر تن سے جدا کر دونگا۔آواز نے کہا کہ سر تن سے جدا ہونے کے بعد بھی تم مجھے مار نہیں سکتے۔کیونکہ میں نے آبِ حیات پی رکھا ہے۔کاش تم مجھے موت دے سکتے۔سامنے دیکھو جو ایک گلی سڑی لاش پڑی ہے وہ میں ہوں۔پانی پینے کی وجہ سے میری روح میری ہڈیوں میں پھنسی ہوئی ہے۔میرا گوشت گل سڑ گیا ہے،لیکن مر نہیں سکتا۔اب تم اس طرح کی زندگی(جو عذاب ہے)چاہتے ہو تو پی لو۔سکندر ایسی زندگی دیکھ کر ڈر گیا۔اس نے اس زندہ لاش سے درخواست کی پھر مجھے کوئی نصیحت کرو۔میں بڑی مشکل سے اس چشمے تک پہنچا ہوں۔لاش سے آواز آئی جاؤ لوگوں کو مارنے ،علاقہ فتح کرنے کی بجائے مخلوق خدا کی خدمت میں لگ جاؤ۔ان کی مشکلات کو حل کرنے میں ان کی مدد کرو۔تم ان کے دلوں پر نسل در نسل راج کرتے رہو گے ۔یہی وہ زندگی ہے جو اس چشمے سے پانی پیے بغیر حاصل کر سکتے ہو۔سکندر نے جسمانی زندگی حاصل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔لیکن زندگی نے اس کو لوگوں کی زندگیاں سنوارنے کے لیے زیادہ وقت نہیں دیا۔لیکن اس کے باوجود وہ لوگوں میں ایک اچھے جنرل کے logo mumtaz khan1طور پر یاد کیا جاتا ہے۔آج بھی تاریخ میں ایسے لوگوں کا ذکر ملتا ہے جن لوگوں نے مخلوق خدا کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں تھیں۔لوگیسے لوگوں کا آج عزت اور تبرک کے طور پر نام لیتے ہیں جن میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے لوگ جیسے ’’مدھر ٹریسا(mother tersa)‘‘کا نام لیا جا سکتا ہے۔ملک کو بچانے کے لیے جانیں قربان کرنے والے ٹیپو سلطان جیسے آج بھی دلوں پر راج کر رہے ہیں۔تاریخ ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔اس کے بر عکس لالچ کے لیے ملک اور قوم کو دھوکہ دینے والے میر صادق اور میر جعفر کا حشر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔جن کی قبروں پر لوگ آج بھی حقارت سے تھوکتے ہیں۔اب ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کامیاب کون لوگ تھے اور ابدی مردہ کون۔زندگی کس نے پائی اور موت کس کے حصے میں آئی۔موت ایک ایسی سچائی ہے کہ کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔زندگی ایک دھوکہ ہے۔جس کو ہم ابدی جان کر حرام اور حلال کی تمیز کیے بغیر صرف پیسے کے پیچھے پڑے ہیں دولت کے لیے ہم چوری کرنے دوسروں کو جان سے مارنے،بیوہ کا حق مارنے،یتیم کی جائیداد ہڑپ کرنے،غریب سے اس کی روزی چھیننے،اور ملک (غریب ملک)کی دولت ناجائز طریقوں سے ان ملکوں کو سمگل کرنے جیسے گھناؤنے کام میں ایک دوسرے سے بازی جیتنے میں تن بدن کی بازی لگائے بیٹھے ہیں ہمارے قائد کے بناے ہوئے ملک کے لوگوں کو قرض کی زنجیروں میں جکڑا کر اس پیسے سے مغربی ملکوں میں عیاشی کرنے والے یہ ضمیر فروش اور درندہ صفت لیڈر معلوم نہیں کیوں ہم پر مسلط ہو گئے ہیں ہم لوگوں کو معلوم نہیں کس گناہ کی سزا مل رہی ہے۔جو ہمیں یاد نہیں۔یہ لوگ ختم ہونے اور مرنے سے پہلے اپنے بچوں کو ہمارے اوپر جانشین کے طور پر مسلط کرنے کے سامان کر کے بیٹھے ہیں۔ان کی تعداد دس ،بیس نہیں ہزاروں میں ہے۔آپ ہر روز TVپر اپنے دفاع میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے نظر آتے ہیں اور غضب کی بات ان کے چہرے پر ندامت کے آثار بھی نظر نہیں آتے،کس ڈھٹائی سے یہ لوگ مسکرا مسکراہمارا منہ چڑاتے ہیں۔اور پھر یہ سوچ کر TVپروگراموں سے فارغ ہوتے ہیں کہ جیسے عوام اور تمام سننے والے لوگ ان کو سمجھ نہیں رہے۔جہاں لوگ ان کو گالیاں دے رہے ہوں وہاں سے یہ لوگ بہرے گونگے بن کر گزر جاتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ان کو گالیاں کیوں دی جا رہی ہیں۔اور ہم بھی ان کو ظاہری احترام کر کے ان کے یقین کو اور پختہ کر رہے ہیں کہ معاشرے میں ہماری بہت عزت ہے۔اگر کوئی ان کو آئنہ دکھائے تو وہ جھوٹا ہے۔لوگوں کا بیدار ہوتا شعور ان کو نظر نہیں آرہا۔ان صاحب اختیار ،صاحب اقتدار اور منتخب لوگ کبھی اتفاق سے بھی ایسا کام نہیں کرتے جو ملک اور قوم کے لیے اچھا ہو۔ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح یہ لوگ اپنی تجوریاں بھری جائیں۔غیر قانونی کام یہ لوگ یا ان کے کارندے خود کرتے ہیں،قبضہ گروپ کی سرپرستی ان کا وطیرہ ہے۔شریف آدمی کو پولیس اور تھانہ کچہری کے چکر میں پھنسا کر اپنی تسکین اور آنا کو خوش کرتے ہیں لوگوں کے مسائل بڑھانے میں سب سے آگے شہر کے اندر تجاوزات اور ماحول کو گندہ کرنے والے سر چشمے ان کے پسندیدہ مشاغل ہیں۔لوگوں کو انہوں نے خوف میں مبتلا کر رکھا ہے اور ہم بھی تعلیم اور شعور نہ ہونے کی وجہ سے غیر ضروری طور پر خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔عوام کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ سانس لینے کے لیے صاف ستھری قدرتی ہوا ہے اس کے بعد صاف پانی وہ بھی میسر نہیں یہ دونوں چونکہ آلودہ ہو رہے ہیں یا ہو چکے ہیں تو لوگ بیمار ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر کے پاس دوائی لینے جاتے ہیں تو وہ جعلی۔اسطرح بیمار لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔اور ڈاکٹر علاج کی بجائے قصاب کا کردار ادا کر رہے ہیں جن علاقوں میں پانی اور ہوا صاف میسر ہے وہاں لوگ نسبتاً صحت مند ہیں اس وقت ضلع چکوال میں ماحول کو آلودہ کرنے میں شہر میں موجود اڈے اور ونہار کہون میں سیمنٹ فیکٹریاں چکوال کے لیے عذاب بنے ہوئے ہیں۔اڈوں اور سیمنٹ فیکٹریوں کے لیے سکندر اعظم کو نصیحت کرنے والی لاش کی نصیحت اپنانی ہو گی۔ان کو ایسے کام کرنے ہونگے جس سے ضلع چکوال کو خدا کی عنایت کی ہو ئی صاف ہوا اور پانی کو آلودہ ہونے سے بچانا ہو گا۔اس قدرتی نعمت کو آلودہ کرنے کا گناہ ان سے سرزد ہو چکا ہے اس کا ازالہ کرنا ان کی بہت بڑی ذمہ داری ہے جو بہر حال ان کو نبھانی ہو گی۔اس آلودگی کی وجہ سے جو لوگ بیمار ہوئے ہیں یا آلودگی کی وجہ سے بے گناہ موت کے منہ میں چلے گئے ہیں وہ شہید اس لیے ہیں کہ وہ کسی دوسرے کے جرم سے موت کے منہ میں چلے گئے ہیں وہ تو بے قصور تھے جو اپنے اور اپنے خاندان کی روزی کا ذریعہ تھے(ان کو شہید کہنا میری ذاتی رائے ہے۔)سیمنٹ فیکٹریوں کے مالکان نے بھی سکندر اعظم کی طرح خالی ہاتھ جانا ہے کے کام صرف ان کے اچھے اعمال آئیں گے۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ سونا صرف ایک بستر پر ہے کھانا اتنا ہے جتنی پیٹ میں جگہ ہے تو پھر اتنی دولت کی حوس کا کیا مطلب ۔وہ کاروبار کس کام کا جس سے ملک اور مخلوق خدا کا بے پناہ نقصان ہو رہا ہو۔میری سمجھ میں تو ان کے نامہ اعمال پر ہر ایک اضافہ ہی اضافہ ہو رہا ہے۔انسان مر رہے ہیں جانور ختم ہو نے کو ہیں پہاڑ جو زمین کا حُسن ہیں صفحہ ہستی سے مٹ رہے ہیں اور ان کے بدلے ان کی تجوریوں میں کاغذ کے چند پرزے۔چند سکوں کی خاطر انسانیت کا قتل یہ کیسی سوچ ہے؟چکوال میں پانچ کے لگ بھگ سیمنٹ فیکٹریاں ہیں ان کو ختم کر کے ان کی جگہ ایک اعلیٰ یونیورسٹی،ایک کی جگہ ایک ایسا جدید ہسپتال،ایک کی جگہ قدرتی ماحول کو بہتر کرنے کے لیے کوئی تحقیقاتی ادارہ،ایک کی جگہ بے آسراہ لوگوں کے لیے کوئی فلاحی ادارہ۔جدید ہسپتال ایسا کہ جہاں پہ اقتدار پر قابض لوگ علاج کرا سکیں جو رقم یہ باہر کے علاج پر خرچ کرتے اتنی رقم تو شاید سیمنٹ سے بھی نہ کمائے جا سکیں فیکٹری مالکان یہ کام کر کے اس دنیا میں سکون اور دوسرے جہان کے لیے اپنی عاقبت سنوار سکتے ہیں یہ لوگ بھی یہ کام کر کے چکوال کے لوگوں کے علاوہ بھی لوگوں کے دلوں پر حکومت کرینگے۔ان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ایسے مواقع بہت کم ملتے ہیں۔اس سے ضلع چکوال کے نقصان کا شاید ازالہ ہو سکے۔سیمنٹ فیکٹریاں گناہ کا وہ ایک سر چشمہ ہیں جن کی وجہ سے مخلوق خدا دن بدن متاثر ہو رہی ہے۔اور یہ گناہ جاریہ ثابت ہو گا اگر فیکٹری مالکان خود یہ کام کریں تو لوگ ان کو اچھے نام سے یاد کرینگے ورنہ یہ کام ان سے عوام کا بڑھتا ہوا پریشر کرائے گا۔اس کام نے ہونا ہے اب صرف وقت کی بات ہے یہ کام سیدھے ہاتھ سے نہیں تو کسی اور طریقے سے ہو گا ان فیکٹریوں کی اجازت دینے والے اشتہاری مجرم قرار دیا جا چکا ہے اور ان فیکٹریوں کے نقصانات بتانے کی جگہ صرف فائدے بتا کر لائسنس حاصل کرنے والے آنے والے وقتوں میں انسانی اور حیوانی نقصان کے علاوہ ماحولیاتی تباہی جیسے مقدمات کا بھی سامنا کرینگے کیونکہ جہاں بھی کوئی انسانی زندگیوں اور ملکی مفادات کا نقصان کرتا ہے وہ دہشتگرد کہلاتا ہے۔یہ بھی با اختیار اور پیسے والے لوگوں کی دہشت گردی ہے جس سے ضلع چکوال کا بہت بڑا علاقہ ایٹم بم جیسی صورت حال میں ہے۔دوسری طرف ہم چکوال والوں کے بے حسی ملا حظہ ہو کہ اگر کہیں قدرتی طور پر زلزلہ آئے پورے ملک میں کہرام مچ جاتا ہے اس کو روکنا ہمارے بس میں نہیں ہوتا چونکہ وہ قدرتی آفت ہوتی ہے لیکن وہی کام یہاں پانچ فیکٹریوں کے مالکان دن دھاڑے اور ڈنکے کی چوٹ پر کر رہے ہیں اور ہمیں پرواہ ہی نہیں۔زلزلہ کیا ہوتا ہے،پہاڑوں میں دفن دھاتیں آپس میں مل جاتیں ہیں،ان کے اس کیمیائی عمل سے دھماکہ ہوتا ہے جس کے دباؤ سے پہاڑ پھٹ جاتے ہیں کبھی کبھی وہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ ہر چیز جل کر پگل جاتی ہے اور وہ مایع بن کر پہاڑ اُبل جاتے ہیں نزدیک کے علاقوں میں زہریلی گرد اور گیس زندگی کو ختم کر دیتی ہے۔دھماکوں سے عمارتیں تباہ ہو جاتیں ہیں اب آپ غور کریں تو سیمنٹ فیکٹریاں ہر روز زلزلے برپا کر رہی ہیں اور ہم یہ کھیل چپ چاپ ہوتا دیکھ رہے ہیں خدا تو خدا ہے تو کیا یہ لوگ بھی ہمارے خدا تو خدانا نخواستہ نہیں بن بیٹھے۔اس سارے کام کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔منتخب لوگ تو اگلے انتخاب تک آنکھیں بند رکھیں گے کیونکہ فیکٹری مالکان کو حکومتی سرپرستی ہمیشہ سے رہی ہے۔پنجاب حکومت نے جہاں مزید فیکٹریاں لگانے پر پابندی لگا دی ہے وہی اس قلعے کے لوگوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی طور پر ان کی بندش کا حکم جاری کر کے اس علاقے کے نقصان کا انہی مالکان سے ازالہ کرائیں کیونکہ اگلے انتخابات میں ماحول کی آلودگی ہاٹ ٹاپک ہو گا۔اگر موجودہ منتخب قیادت یہ کام نہیں کرتی تو یہ ایک سنہری موقع کھو دے گی۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ چکوال کے گنتی کے مزدوروں کے علاوہ چکوال صرف گھاٹے میں جا رہا ہے۔