دہشت گردی مختلف۔۔نتیجہ ایک

تحریر ممتاز خان

پاک سرزمین مدت سے مختلف قسم کی دہشت گردی کا شکار ہے خود کش دھماکوں سے پہلے بھی ہماری سرزمین کو تباہ کیا جاتا رہا ہے اور ساتھ ساتھ انسان اور جانور اس کا شکار ہوتے رہے ہیں،وہ دہشت گردی کچھ اس طریقے سے ہو رہی تھی جس کا ہمیں نقصان تو بد ستور ہو رہا تھا لیکن ہمیں اسکا کوئی خاص احساس نہیں ہو رہا تھا لیکن وہ دہشت گردی آہستہ آہستہ ہمارے ملک اور عوام کو کینسر کے مرض کی طرح کھا رہی تھی اس کی سب سے بڑی پھنسی مار گلہ کی پہاڑوں سے شروع ہوئی اس کے بعد اس کا رخ ضلع چکوال کے خوبصورت پہاڑوں کی طرف موڑ دیا گیا جہاں پہ پھیلتے پھیلتے ایک بہت بڑا نا سور بن چکا ہے۔یہ پھوڑا بڑھتے بڑھتے ایک لاعلاج نا سورر کی شکل اختیار کر گیا ہے،خود کش دھماکے کرنے والوں میں اور تباہی کے ان سر چشموں میں فرق صرف اتنا ہے کہ خود کش دھماکہ کرنے والے اچانک نمودر ہو جاتے ہیں جن کو روکنا بہت مشکل ہوتا ہے جبکہ یہاں دھماکے روزانہ کے حساب سے ہو رہے ہیں خو کش دھماکہ ہو جانے کے بعد جانی اور مالی نقصان کا پتہ چلتا ہے جبکہ یہاں دھماکوں سے ہونے والے نقصان کا پہلے سے علم ہوتا ہے کس کس جگہ نے صفحہ ء ہستی سے مٹ جانا ہے اور کتنی زہریلی گیس ہوا میں شامل ہونگی،کتنا پانی ضائع ہونا ہے اور کتنے مکانوں نے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہونا ہے،کتنے علاقے نے سیمنٹ اور دوسری زہریلی مٹی کی چادر سے لپٹا جانا ہے،کتنے logo mumtaz khan1علاقے کے جانوروں نے خطر ناک گھاس کھائی ہے،بے شمار خاص کر غریب لوگ لا علمی یا کمزور اور بے بس ہونے کی وجہ سے اس مہذب دہشت گردی کا شکار ہو جاتے ہیں زمین ہر روز بانجھ سے بانجھ تر ہو رہی ہے علاقے کے کرتا دھرتا لوگ اس انسان دشمن دھندے میں ٹھیکے اور دوسری سہولیات لے کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ضلع چکوال کی منتخب قیادت کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ علاقے کی بے بس عوام اور زمین بانجھ کرنے والوں کے خلاف حکومتی سطح پر آواز اٹھاتی لیکن انہوں نے بھی مسلم لیگی کانوں کے بنے قلعے میں پناہ لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھی،یہ قلعہ اب زمین بوس ہونے کو ہے اس قلع میں پڑی دراڑیں بڑی واضح نظر آ رہی ہیں اس کھوکھلی بنیادوں والے قلعے کے باسی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ مالیاتی آلودگی پر چپ سادھ کر اور خود قانون کو توڑ کر اس قلعے کو وقت سے بہت پہلے زمین بوس کرنے کے سامان پیدا کر رہے ہیں،یہ قلعہ اب کی بار گر کر عبرت کا نشان بن جائیگا،پاکستان میں در اصل لوگ منتخب ہو کر ملک کی خدمت کے لیے کام نہیں کرتے بلکہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل رقم کو ہڑپ کرتے آتے ہیں بد قسمتی دیکھے کہ ان کو گھر بیٹھے بٹھائے بھاری تنخواؤں کے ساتھ لاکھوں روپے سالانہ دوسرے الاؤنس ملتے ہیں،اس کے بدلے یہ انتظامیہ پر اپنے فیصلے مسلط کراتے ہیں اور اگر کوئی فرض شناس افسران کی مرضی کے خلاف کام کرے تو اس کی بدلی کرادیتے ہیں اور افسوس کہ اعلیٰ وزیر وہ کام غلط یا ٹھیک کر بھی دیتے ہیں جس سے لائق اور فرض شناس افسر بدل ہو جاتے ہیں یہ بھی ایک دہشت گردی کی قسم ہے ملک کے اعلیٰ ہنر مند لوگ ملک چھوڑ کے چلے گئے ہیں ان کی علم و ہنر سے دوسرے ملک فائدہ اٹھا رہے ہیں ہمارے اعلیٰ حکام غیر ملکی دوروں پر ملک کے عوام کی خون پسینے کی کمائی لٹا رہے ہیں ملکی مسائل جوں کے توں پڑے ہوئے ان کو حل کرنے کے لیے ان کے پاس نہ تو وقت ہے اور نہ ان کو کوئی احساس ہے ملک دن بدن قرضوں میں ڈوبتا جا رہا ہے عوام غربت سے بدِل ہو گئے ہیں ان کے اس فعل کو کونسا نام ملنا چاہیے سینکڑوں کے حساب سے لوگ وزیراؤ کے اخراجات لے رہے ہیں جب دیکھوگھر میں محفلیں سجائے بیٹھے ہیں ان کو دیکھ کر عام آدمی سوچ میں ڈوب جاتا ہے کہ ان لوگوں پر آخر کیوں اتنا سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے۔اسکا جواب یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کی خوش قسمتی ہے کہ ہم ان پڑھ ہونے کے ساتھ حد درجہ بد قسمت بھی ہیں کہ عام پاکستانی خون پسینے سے کماتا ہے اور کچھ کر بھی نہیں سکتا وہ یہ کہہ کر بیٹھ جاتا ہے کہ میں اکیلا ان کا کیا بگاڑ سکتا ہوں وہ سب کچھ کر سکتا ہے،اگر ان کے خلاف آواز بلند کرتے اور وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے ن لیگی حکومت عوام کی توقع سے کہیں زیادہ نا اہل ثابت ہوئی ہے الیکشن سے پہلے ان کے بیانات اور آج کے کارنامے روز روشن کی طرح عیاں ہیں مشرف کی مثال سب کے سامنے ہے یہ بہت کچھ کہنے کے باوجود کچھ بھی نہ کر سکے اور اب کھمبا نوچ رہے ہیں۔ ان سے نہ کچھ ہوا ہے اور نہ کچھ ہو گا ۔ان چڑیوں کے لیے ابھی کھیت میں کچھ ہے آنے والے وقتوں میں یہ چڑیاں چگ کر اڑان بھرلیں گی،وزیروں اور مشیروں کے لشکر سے جان چھڑانے کا ایک ہی طریقہ ہو کر ملک میں صدارتی نظام رانج کر دیا جائے اور ان MNAاور MPAکی اس فوج اور ان کے اخراجات سے ملک کو نجات دلائی جائے یہ لوگ اس ملک پر نہ صرف بوجھ ہیں بلکہ بہت سے تو سرکاری زمینوں پر قبضہ کیے ہوئے ہیں یا قبضہ گروپوں کی پشت پناہی کرتے ہیں ان کے عزیز و اقارب غیر قانونی کام کرکے ان کی سر عام نمائش کر کے قانون کا مذاق بھی اڑاتے ہیں،حالانکہ ان کا کام قانون بنانا اور اس پر عملدراری ہے،یہ منتخب نمائندے نہیں بلکہ مسلط نمائندے ہیں،ان سے نجات حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو دعا کرنی چاہیے کہ 2016ان کا آخری سال ہو ضلع چکوال اس وقت سب سے زیادہ ماحولیاتی اور جنگلات کے غیر قانونی کٹاؤ کا شکار ہے ،بار بار کی درخواستوں کے باوجود کٹاؤ کا عمل محکمے کی ملی بھگت سے عروج پر ہے کسی کو کوئی پرواہ نہیں درخواست کے بعد ایک آدھ دن رسمی گشت ہوتی ہے اس کے بعد نقصان میں پہلے سے تیزی آجاتی ہے اس بارے میں چکوال کا متعلقہ محکمہ بہت بد نام ہے درختوں کی کٹائی سے جنگلی مخلوق تیزی سے ختم ہو رہی ہے. ایک دن نو شیروانِ عادل سیر کے لیے نکلا تو باغ کے مالی کو دیکھا جو کافی عمر رسیدہ تھا اور چھوٹے چھوٹے پودوں کو گوڈی کر رہا تھا نو شیروان نے چھوٹے چھوٹے پودوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ بڑے میاں اتنی محنت کر رہے ہو کیا تم اپنی زندگی میں ان کا پھل کھا سکو گے مالی نے جواب دیا جہاں پناہ دوسرے کے لگائے ہوئے پودوں کے پھل ہم نے کھائے ہم انہی کے کام کو آگے لے کر جا رہے ہیں ہمارے بعد آنے والی نسلیں یہ پھل کھائیں گی بزرگ مالی کی بات اس کے دل کو بھا گئی اس نے اپنے آنے والی نسلوں کے لیے انقلابی اقدام کر کے اپنے ملک اور رعایا کے لیے اپنی ذمہ داری نبھائی،اب ہم اپنے حکمرانوں کو دیکھیں تو ان کے ہر اقدام سے آنے والی نسلوں کو صرف نقصان ہی نقصان ہے ان کی اپنی نسلیں بیرونی ملک پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت سے مستقبل سنوار رہے ہیں جب تک لوٹنے کے لیے یہاں کچھ ہے یہ باری رکھ کر دونوں ہاتھوں سے لوٹیں گے انہی میں سے کچھ نے تو اپنے بھائیوں کو دشمن کے ہاتھ ڈالر کے بدلے بیچ دیا تھا حتی کہ انہوں نے قومی کی بیٹی تک کو نہیں بخشا ۔وہ ان گناہوں کی 80سا ل کی قید کاٹ رہی ہے جو اس نے کیے ہی نہیں ۔اس کے علاوہ انسانوں کے اس بیو پاری نے اپنے ہی ملک کے کچھ حوس پرستوں کو ملک کی پہاڑوں میں ڈھکی دولت کو پیس کر مٹی کی شکل میں اور مٹی کے بھاؤ ان ملکوں کو ڈالروں کے بدلے بیچنے کے تھوک کے حساب سے لائسنس جاری کیے نو شیروانِ عادل کے الٹ بلکل برعکس یہ لوگ بیماریوں کا ایک سیلاب چھوڑ کر جائیگے وہ صرف اس پر راضی نہیں بلکہ ان اقتدار کے بپاریوں سے اپنی لوٹ مار کے لیے نئے نئے پرسٹ لے رہے ہیں ،بظاہر یہ لوگ کہتے ہیں ہم گورنمنٹ کو ٹیکس دیتے ہیں ایک آدمی نے آف دی ریکارڈ بات کی تھی کہ یہ لوگ ٹیکس سے نہیں بڑی رقم ہم سے انڈر ٹیبل وصول کرتے ہیں ،اگر عوام کو پتہ چلے تو شاید ان کو وہ کچا کھا جائیں یہ ہیں ملک کے اعظم اور خادم،اللہ ایسے حکمرانوں سے پاکستان کو بچائے،میری ان فیکٹری مالکان سے گزارش ہے کہ انہوں نے بہت کچھ کما لیا اب جو جو نقصان پاکستان کا ان کے ہاتھوں ہوا۔اس کو پورا کریں پہاڑوں کو دوبارہ ان کا حسن واپس کریں تا کہ آنے والی نسلیں ہماری طرح جی سکیں،آپ لوگوں نے دولت ساتھ لے کر نہیں جانی،آپ کو رخصت کرنے والوں نے کفن بھی ناپ کر دینا ہے،اور اس کی کوئی جیب نہیں ہو گی،مکان بند ہو گا اور ہوا اور روشنی جو آپ نے ہمارے ضلع کی برباد کی ہے،وہ بھی آپ کے لیے وہ لوگ بند کر دینگے،اس وقت وہ لوگ جن کے لیے آپ ان کی زمین ان کے لیے جہنم بنا رہے ہیں آپ کے سامنے کھڑے ہونگے،وہاں تو صرف انصاف ہو گا،ذرہ سوچیے۔یہاں بھی انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹائے جا سکتے ہیں۔