آپریشن ردالفساد میں دہشتگردوں کی بجائے پشتونوں کیخلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ سینیٹر محمد عثمان کاکڑ

چکوال(زمرے خان سے) پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر محمد عثمان کاکڑ بدھ کے روز بتایا کہ ملک کا آئین پارلیمنٹ کو بالادست کرتا ہے۔ تمام ادارے ، فوج ، عدلیہ، افسر شاہی، انتظامیہ پارلیمنٹ کو جواب دہ ہیں اور عوام کسی غیر آئینی طریقے کو برداشت نہیں کریں گے، ٹیکنو کریٹ اور قومی حکومت کا قیام غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اب کسی مداخلت کو قبول نہیں کریں گی۔ وہ چکوال پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ اس موقع پر سینیٹر محمد اعظم موسیٰ خیال راولپنڈی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل حاجی عبدالقیوم اور ضلع چکوال کے امیر خان حکیم خان بھی موجود تھے۔محمد عثمان کاکڑ نے مزید بتایا کہ پاکستان مختلف قوموں کی ایک فیڈریشن ہے مگر مسلسل چار مارشل لاء کی وجہ سے اس فیڈریشن کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ سینٹ فیڈریشن کا نشان ہے لہٰذا سینٹ کے اختیارات قومی اسمبلی کے برابر کیے جانے چاہیں جس کی وجہ سے تمام قومتیں مطمئن ہونگی اور اس سے پارلیمنٹ بالادست ہوگی اور پارلیمنٹ کو بالادست کرنے کا مطلب یہ ہے کہ غیر آئینی ، غیر قانونی اور فوجی مداخلت کا رستہ بند ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اب فوجی مداخلت نہیں ہوئی تو شدید ردعمل سامنے آئے گا، غیر جمہوری قوتوں کو چور دروازے سے مسلط کیا گیا تو اب آئین کی بحالی نہیں بلکہ قوموں کی خود مختاری اور اپنے حقوق کی بات کریں گے۔ عثمان کاکڑ نے مزید کہا کہ فاٹا کو علیحدہ صوبے کا درجہ دیا جائے اور فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ فاٹا کے عوام کو اعتماد میں لیکر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں اغواء اور ڈاکہ ذنی جیسے جرائم کی کوئی گنجائش نہیں۔ فوجی حکمرانوں نے فاٹا اور قبائیلی علاقوں کا پرامن ماحول خراب کیا ہے، کلاشنکوف اور ہیروئن ضیاء الحق کے مارشل لاء کا تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے پشتونوں کو ملک کے دیگر صوبوں میں شناختی کارڈ کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور پاکستان شہریت رکھنے والے پشتونوں کے شناختی کارڈ نادرا نے بلاک کر دیے ہیں جو کہ بڑی زیادتی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپریشن ردالفساد میں دہشتگردوں کی بجائے پشتونوں کیخلاف کارروائی کی جا رہی ہے جو کہ ظلم اور جبر ہے۔ پختون دہشتگرد نہیں ہیں ، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن میں ہم حکومت کیساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کالعدم تنظیمیں مختلف شکلوں میں کام کر رہی ہیں ان کو نہیں روکا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ 22اکتوبر کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں تاریخی اکٹھ ہوگا جس میں ملک کے دیگر صوبوں میں موجود تین لاکھ پشتونوں کے شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے حوالے سے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔آخر میں مضبوط اور خوشحال پاکستان کا اظہار یکجہتی کیک بھی کاٹا گیا۔